Poetry by Ali Zaryoun

زمیں لاکھ ملامت سہہ کر بھی ، ترے ساتھ رہا ترا یار رہا
میں نے مُڑ کے نہیں دیکھا اُس کو، تجھے جس جس سے انکار رہا

جو لفظ کا پیشہ کرتے تھے ، مصروف رہے مشہور ہوئے
تری یاد مِری مزدوری تھی ! میں جیون بھر بیکار رہا !

گبوسہ دے کر باندھ لی، اپنے سیدھے ہاتھ پر

آیت اک انجیل کی ، بسم اللہ کی ڈور سے !

میں جوابا بھی جنہیں گالی نہیں دیتا وہ لوگ
میری جانب سے اسے خاص محبت سمجھیں

غزل

ہہم جو بہتان تراشی میں بہت آگے ہیں

ہم جو مُردوں کا کفن بیچ کے کھا جاتے ہیں

ہم جو مشہور ہیں ! بے حرمتی ء فن کے لئے

ہم ! جو جیتے ہیں فقط دھن کے لئے، تن کے لئے

کون معصوم ہے، شیطان ہے، ہم کیا جانیں

ہم تو جو سن لیں اُسی بات کو سچ مانتے ہیں

کھوج کرنے کی مشقت سے ہمیں کیا مطلب ؟

ہم تو ٹی وی کی کہانی کو سند جانتے ہیں

ایسے اندھے ہیں کہ تمعیزِ بد و نیک نہیں

جو تحمل سے ذرا سن لے ! کوئی ایک نہیں !

بے حیائی ہمیں ملبوس میں جا ملتی ہے

اور ڈھٹائی سے یہ کہتے ہیں بجا ملتی ہے

آنکھ ننگی ہی رہے، پردہ ہمیں چاہئیے ہے

حال تاریک ہے اور فردا ہمیں چاہئیے ہے !

کارِ دنیا ہو ، فنِ شعر ہو یا دیں داری

ہم دکھاتے ہیں فقط حرص فقط مکّاری

آئینہ جو بھی دکھا دے اُسے غدّار کہیں

جو ہمیں جھوٹ سکھاتا ہے، اُسے یار کہیں

اپنے اسلاف کی نسبت کا بھرم رکھتے ہیں

اس میں کیا شرم اگر شرم بھی کم رکھتے ہیں

ہم بھی کیا لوگ ہیں ! تاریخ کے دھتکارے ہوئے

اپنی خود ساختہ حالت کے سبب ہارے ہوئے !

Urdu Poets

...
...
Mirza Galib
...
...
Mirza Galib