Poetry by Jaun Elia

آدمی وقت پر گیا ہوگا
آدمی وقت پر گیا ہوگا
وقت پہلے گزر گیا ہوگا

وہ ہماری طرف نہ دیکھ کے بھی
کوئی احسان دھر گیا ہوگا

خود سے مایوس ہو کے بیٹھا ہوں
آج ہر شخص مر گیا ہوگا

شام تیرے دیار میں آخر
کوئی تو اپنے گھر گیا ہوگا

مرہم ہجر تھا عجب اکسیر
اب تو ہر زخم بھر گیا ہوگا

بے قراری سی بے قراری ہے

بے قراری سی بے قراری ہے
وصل ہے اور فراق طاری ہے

جو گزاری نہ جا سکی ہم سے
ہم نے وہ زندگی گزاری ہے

نگھرے کیا ہوئے کہ لوگوں پر
اپنا سایہ بھی اب تو بھاری ہے

بن تمہارے کبھی نہیں آئی
کیا مری نیند بھی تمہاری ہے

آپ میں کیسے آؤں میں تجھ بن
سانس جو چل رہی ہے آری ہے

اس سے کہیو کہ دل کی گلیوں میں
رات دن تیری انتظاری ہے

ہجر ہو یا وصال ہو کچھ ہو
ہم ہیں اور اس کی یادگاری ہے

اک مہک سمت دل سے آئی تھی
میں یہ سمجھا تری سواری ہے

حادثوں کا حساب ہے اپنا
ورنہ ہر آن سب کی باری ہے

خوش رہے تو کہ زندگی اپنی
عمر بھر کی امیدواری ہے

اب کسی سے مرا حساب نہیں

اب کسی سے مرا حساب نہیں
میری آنکھوں میں کوئی خواب نہیں

خون کے گھونٹ پی رہا ہوں میں
یہ مرا خون ہے شراب نہیں

میں شرابی ہوں میری آس نہ چھین
تو مری آس ہے سراب نہیں

نوچ پھینکے لبوں سے میں نے سوال
طاقت شوخئ جواب نہیں

اب تو پنجاب بھی نہیں پنجاب
اور خود جیسا اب دو آب نہیں

غم ابد کا نہیں ہے آن کا ہے
اور اس کا کوئی حساب نہیں

بودش اک رو ہے ایک رو یعنی
اس کی فطرت میں انقلاب نہیں

کچھ کہوں، کچھ سنوں، ذرا ٹھہرو

بکچھ کہوں، کچھ سنوں، ذرا ٹھہرو
ابھی زندوں میں ہوں، ذرا ٹھہرو

منظرِ جشنِ قتلِ عام کو میں
جھانک کر دیکھ لوں، ذرا ٹھہرو

مت نکلنا کہ ڈوب جاؤ گے
خوں ہے بس، خوں ہی خوں، ذرا ٹھہرو

صورتِ حال اپنے باہر کی
ہے ابھی تک زبوں، ذرا ٹھہرو

ہوتھ سے اپنے لکھ کے نام اپنا
میں تمہیں سونپ دوں، ذرا ٹھہرو

میرا دروازہ توڑنے والو
میں کہیں چھپ رہوں، ذرا ٹھہرو

Urdu Poets