Poetry by Ikram Afzal

Offical Youtube Channel

غزل


وہ ترے ہجر میں پاگل بھی تو ہو سکتا ہے
دل تری یاد سے بوجھل بھی تو ہو سکتا ہے

جس کو ہر بار تغافل سے دکھیلا پیچھے
جان دینے میں وہ اول بھی تو ہو سکتا ہے

تو جو ہر وقت سمایا ہے نظر میں میری
تو کبھی آنکھ سے اوجھل بھی تو ہو سکتا ہے

لوگ سارے کہ جسے کالی گھٹا کہتے ہیں
وہ تیری آنکھ کا کاجل بھی تو ہو سکتا ہے

تو جو ڈھونڈے تو اسے پائے گا ہر سو اپنے
وہ کہیں دھوپ میں بادل بھی تو ہو سکتا ہے

اس کو بولو کہ چلا آئے ہماری جانب
سانس کا رشتہ معطل بھی تو ہو سکتا ہے

مجھ کو کب دعویٰ ترے دل کے قریں ہونے کا
کوئ اکرام سے افضل بھی تو ہو سکتا ہے

غزل

ہم نے کسی کی بات کو مانا تو ہے نہیں
دل میں ترے علاوہ بسانا تو ہے نہیں

کیوں کہہ رہے ہو مجھ سے فلاں ہے ،فلاں بھی ہے
میں نے ترے سوا کہیں جانا تو ہے نہیں

جب آئے گا تو خود ہی مداوا کرے گا وہ
میں نے کسی کو زخم دکھانا تو ہے نہیں

درگاہ یار دست دعا اور کسی کا دل
ان کے علاوہ اپنا ٹھکانہ تو ہے نہیں

تو پہلے اور لوگوں کو بے شک نواز لے
میں نے بھی آستان سے جانا تو ہے نہیں

کیوں فکر ہو کسی کو اثاثہ ہے کیا مرا
ردی کا ڈھیر ہے یہ خزانہ تو ہے نہیں

کڑھتا رہوں گا جانے کہاں تک اکیلا ہی
جذبہ شکستہ دل کا بتانا تو ہے نہیں

بہتر ہے تم گلاب کو رہنے دو شاخ پر
اس نے یہ گیسوؤں میں سجانا تو ہے نہیں

بس تو ہے تیرے بعد قسم ہے کہ کچھ نہیں
اے دوستا یہ سچ ہے فسانہ تو ہے نہیں

( مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن)

غزل

مکیں نہ ہو تو مکاں بن بھی جائے کیا حاصل
ترے بغیر جہاں بن بھی جائے کیا حاصل

ترے قریب نہ لائیں تو خاک ہیں سجدے
جبیں پہ کوئ نشاں بن بھی جائے کیا حاصل

وہ ایک شخص اگر روٹھ کر چلا جائے
یہ شہر جائے اماں بن بھی جائے کیا حاصل

یہاں پہ لفظ نہیں لہجے مار دیتے ہیں
تمھاری ناں کبھی ہاں بن بھی جائے کیا حاصل

ہمیں تو یوں بھی تمھارا شکار بننا ہے
عدو کا ہاتھ کماں بن بھی جائے کیا حاصل

تمھارے چھوڑے ہوؤں کو خرید پائے گا کون
جہانِ عشق دکاں بن بھی جائے کیا حاصل

تجھے یقین تو آنا نہیں محبت کا
ہماری آنکھ زباں بن بھی جائے کیا حاصل

ہوس میں جسم کی کھوئے ہوئے ہیں سب اکرام
کسی کا عشق اذاں بن بھی جائے کیا حاصل

"معاہدہ "

چلو پھر ایسا کرتے ہیں
مری آنکھوں میں جھانکو تم
اگر کوئ سوا اپنے نظر آئے
    
تو کہہ دینا         
میں جھوٹا ہوں      
فریبی ہوں

چلو میں مان لیتا ہوں
    
  مرے آنسو بھی جھوٹے ہیں وہ سجدے بھی،  دعائیں بھی
            

چلو پھر یوں کرو ناں تم
مری آنکھوں کے رستے سے
              
مرے دل تک رسائ لو            

وہاں پر جا کہ دیکھو تم        کسی ٹوٹے ہوئے ٹکڑے پہ اپنا عکس مل جائے
تو لوٹ آنا
مرے کانوں میں چپکے سے یہ کہہ دینا
ذرا تاخیر کی لیکن
ابد تک اب تمھاری ہوں

Urdu Poets

...
...
Mirza Galib
...
...
Mirza Galib